Friday, 24 January 2025

ابن صفی کی کہانی ’’شکرال کی جنگ‘‘ ایک – ڈاکٹر سلمان فیصل


ابن صفی ایک نابغہ روزگار شخصیت کے مالک ہیں۔ان کی بے شمار جہتیں ہیں۔ ان کے قلم سے الفاظ و معانی کے آبشاروں کی قطاریں وجود میں آتی ہیں۔ناول کی دنیا میں ابن صفی ایک ٹھاٹھیںمارتا سمندر ہے۔ ان کے کارناموں کا ذکر بہت طویل ہے۔ کن کن پہلؤوں کو زیر بحث لایا جائے۔  دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں۔بجائے اس کے کہ ان کے کمالات کو ایک ایک کرکے بیان کیا جائے، آمدم بر سر مطلب، میں ابن صفی کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی رہنمائی کرتا ہوں اور اس سے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں۔ وہ خاص پہلو ہے ابن صفی کا رزمیہ بیانیہ۔ جی ہاں ابن صفی کے ناولوں میں رزمیہ بیان۔ یوں توآپ دیکھیں گے کہ ابن صفی کے کئی کردار سیکڑوں معرکے سرکرتے نظر آئیں گے۔ علی عمران ایم ایس سی، کرنل فریدی، ٹی تھری بی اور سنگ ہی جیسے معروف و مشہور کردار کی دھینگا مُشتی اور ہاتھا پائی کے ساتھ ساتھ تیر تلوار اور بندوق طمنچہ، ریوالور اور رائفلوں کا کھیل دیکھا ہی ہوگا۔ لیکن اس مضمون کے توسط سے آج ابن صفی کی آباد کی ہوئی ایک ایسی دنیا کی سیر کرتے ہیں جس کے خالق خود ابن صفی ہیں۔ وہ ہے قبائلی علاقہ شکرال۔ جس کی تہذیب و تمدن کے نقوش ابن صفی کی کہانیوں کالے چراغ، خون کے پیاسے، الفانسے اور درندوں کی بستی میں نظر آتے ہیں۔ ابن صفی کے قلم سے آباد کیا ہوا یہ قبائلیوں کا علاقہ ہے جس کے باشندے جنگجو ، نڈر اور بہادر قسم کے ہیں۔

Wednesday, 22 January 2025

بچوں کے بیکل اتساہی – ڈاکٹر سلمان فیصل

عوامی شاعری کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تونظیر اکبر آبادی یاد کیے جاتے ہیں، لیکن اسی عوامی شاعری میں جب کثرت سے دیہی رنگ کا تذکرہ ہو تو عہد حاضر کے شاعر بیکل اتساہی کا کلام ذہنوں پر سوار ہونے لگتا ہے۔ بیکل اتساہی کا اپنا منفرد انداز ہے، خواہ وہ شاعری کا ہو یا مشاعروں میں کلام پیش کرنے کا۔ وہ اپنے آپ میں ایک تہذیبی انجمن ہیں۔ان کو دیکھ کر ان کو سن کو اور ان کے کلام کو پڑھ کر جو تصور ذہن میں قائم ہوتا ہے اس میں پوری طرح ہندوستانی فضا بالخصوص دیہی فضا اور اس کا رنگ شامل نظر آتا ہے۔ بیکل اتساہی دیہی فصیح الفاظ سے جس طرح سے اٹکھیلیاں کرتے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے کے سارے الفاظ ان کے سامنے شرارتی بچوں کی طرح ادھم مچا رہے ہیں۔ بیکل اتساہی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے کھیل میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ ہر لفظ اچھلتا کودتا ان کی شاعری کے کھیل کا حصہ بننے کے لیے بے قرار نظر آتا ہے۔ یہ شاعر کی بڑی کامیابی ہے کہ الفاظ قطار در قطار بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں شاعر کے رو بہ رو کھڑے ہوں۔ بیکل اتساہی کی غزلوں اور گیتوں نے مشاعروں میں خوب کہرام مچایا۔ یہ بات صرف مشاعروں تک محدود نہیں، بلکہ ان کے مطبوعہ کلام نے بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ لوگ ان کے کلام کو پڑھتے ہیں اور اس کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے کلام کی جادوبیانی صرف مشاعروں تک نہیں بلکہ صفحہ قرطاس پر چھپ جانے کے بعد بھی ان کا دم خم قائم ہے۔

بیکل اتساہی نے جہاں غزلیں نظمیں اور گیت لکھے، وہیں انھوںنے بچوں کی طرف بھی توجہ کی۔ گرچہ یہ التفات بہت کم ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی نظمیں لکھی ہیں، جواردو ادب اطفا ل کے ذخیرے میں ایک اضافہ ہیں۔ یہ زیادہ تو نہیں مگر جوبھی ہیں اپنی اسی آب و تاب کے ساتھ ہیں؛ جو خوبیاں اور خصوصیات ان کے دیگر کلام میں پائی جاتی ہیں۔ کلیات بیکل اتساہی مرتبہ فاروق ارگلی میں یہ تمام نظمیں شامل ہیں۔ یہ کل ۲۷ نظمیں ہیں۔ عمومی جائزہ لیں تو یہ تین خانوں میں منقسم نظر آتی ہیں۔ کچھ نظمیںایسی ہیں جن میں سائنسی موضوعات کو پیش کیا گیا ہے، یعنی بچوں کو نظموں کے ذریعے سائنس کے کچھ بنیادی موضوعات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چار نظمیں ایسی ہیں جو پہیلیوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ عام عنوانات اور نصیحت آموز نظمیں ہیں ۔گویا کہ بچوں کی ذہنی کیفیات اور ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کریہ نظمیں لکھی گئی ہیں۔ان نظموں کے مطالعہ سے یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان میں بھی بیکل اتساہی کی خاص خوبی پوری طرح ودیعت کی ہوئی ہے۔ ان کا خاص رنگ اچھی طرح ان نظموں میں نظر آتا ہے۔

بیکل اتساہی کی ان نظموں میں شروع کی تین نظمیں وطنیت پر مبنی ہیں۔ ایک نظم کا عنوان ’’یقین کامل‘‘ ہے۔ اس میں انھوں نے ہندوستان کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ہندوستان کی مٹی ہیں، ہم یہیں چمکتے رہیں گے ،کوئی ہمیں یہاں سے بے دخل نہیں کرسکتا۔گویا کہ انھوں نے کھل کر وطنیت کا راگ گاپا ہے اور ہندوستانی قومیت کے تصور کو اپنی اس نظم میں جگہ دی ہے۔ پہلا بند ملاحظہ فرمائیں، جس میں ہندوستان میں ڈٹے رہنے کا عزم کس ولوے اور جذبے کے ساتھ نظر آتا ہے:
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں
جو چاہے زمانہ کچھ بھی کرے
ہم یوں ہی چمکتے جائیں گے
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں
طوفان ہو یا بھونچال کوئی
سازش نے بنا ہو جال کوئی
یا راج نیتی کی ہو چال کوئی
سب چند دنوں کے مہماں ہیں
یہ ہار کے تھک جائیں گے
ہم ہندوستان کی ماٹی ہیں

اس پوری نظم میں ہندوستانی قومیت کی روشنی پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہے۔ نغمگی کا حسن بھی ہے کہ بچے خوبصورت لے میں گنگناتے رہیں۔ اگر یہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ محفل میں گائی جائے تو سامعین کے رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس نظم میں قدیم ہندوستانی فضا بالخصوص گنگا، امرت اور کیلاش کا بھی خاص تذکرہ ہے۔
بیکل اتساہی نے ’’ترانہ وطن‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے۔ یہ بھی ہندوستانی قومیت پر مبنی ہے۔ یہ ترانہ علامہ اقبال کی زمین میں لکھا گیا ہے، البتہ اس کا قافیہ الگ ہے۔اس میں بھی ہمالیہ، ندیاں، جنگل اور بن، نیز گل و گلزار ہند کا ذکر ہے ۔ ایک طرح سے بیکل اتساہی نے اقبال کے ترانہ ملی کو اپنے طرز اور اپنی خاص وضع میں پیش کرنے کی کو کوشش کی ہے۔ مطلع اور آخری شعرپڑھ کر علامہ اقبال کی یاد آجاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
سنسار سے نرالا پیارا وطن ہمارا
یہ زندگی ہماری یہ تن بدن ہمارا
مذہب نہیں ہمارا نفرت حسد کسی سے
ہم بھارتی ہیں بیکل الفت چلن ہمارا

ہندوستان کی تعلیمی اسکیم ’’خواندگی مشن‘‘ کو سامنے رکھ کر بیکل اتساہی نے ’’’نعرہ خواندگی‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے۔ظاہر ہے یہ مشن بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہے، لہٰذا بیکل اتساہی بھی اس مشن کا حصہ بنتے ہوئے ایک نظم کہی، تاکہ بچے اس کو پڑھ کر اور گا کر اس خواندگی کے مشن کو دوسروں تک پہنچائیں۔ اس نظم میں بچوں کے ذریعے ایک عہد و پیمان لیا جارہا ہے کہ چل کر سب کو بتایا جائے کہ سب کو پڑھنا ہے، سب کو آگے بڑھنا ہے اور کسی کو ان پڑھ نہیں رہ جانا ہے۔ اس نظم میں تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔چند اشعار دیکھیں:
یہی وقت کا گیت گاکر سنادو
نہیں دیش کو رہنا ان پڑھ گوارا
چلو ساتھیو اب وطن کو سجاؤ
جو ان پڑھ ہیں ان کو پڑھاؤ لکھاؤ
ہی تعلیم افضل یہی گنگنانا
ڈگر علم و فن کی سنوارو سجاؤ
زمانے کا بگڑا مقدر بناد
نہیں دیش کو رہنا ان پڑھ گوارا

بیکل اتساہی کی ایک نظم ’’ منے کی پھلواری‘‘ گیت کی شکل میں ہے۔ جس میں انھوں نے بچوں کے کھلونوں اور ان کے کھیلنے کے طریقوں کو موضوع بنایا ہے۔ بچوں کے پاس کس کس قسم کے کھلونے ہوتے ہیں، کچھ ان کے اپنے بنائے ہوئے ہوتے ہیں کچھ خریدے ہوئے ،ان سب کا بیان ہے لیکن یہ منے کی پھلواری بھی کسی شہر کی نہیں، بلکہ گاؤں دیہات کی ہے۔بیکل اتساہی نے اسی لحاظ سے لفظوں کا انتخاب بھی کیاہے۔اس میں کھیت کھلیانوں اور پالتو جانوروں کا بطور خاص ذکر ہے۔

بیکل اتساہی نے چند نظمیں نصیحت آموز کہی ہیں۔ ان کے عنوانات ’اچھی عادت، اچھی صحت، بنو مہان، اپنی حفاظت اور اچھا سبق وغیر ہیں۔ ان نظموں کے ذریعے انھوں نے بچوں کو نصیحتیں کی ہیں۔ ’’اچھی عات‘‘ میں انھوں نے کچھ اچھی عادتوں کا ذکر کیا ہے ،جنھیں بچوں کو اپنانی چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے ۔مثلاً صبح سویرے اٹھنا، ہاتھ منھ دھونا، اعضا و جوارح کی صفائی، کسرت، کھلی ہوا میں ٹہلنا وغیرہ نیز پڑھائی او رکھیل دونوں ضروری ہیں، مگر وقت پرہوں۔ اسی طرح ’’اچھی صحت‘‘ میں انھوں نے صحت مند رہنے کے راز سے بچوں کو آگاہ کیا ہے کہ کس طرح کھانے پینے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ اسی نظم میں بڑوں کا احترام اور ان کی باتوں کو ماننے کا بھی مشوہ دیا گیا ہے۔

’’بنو مہان‘‘ بھی ایسی ہی ایک نظم ہے، جس میں انسان کے کامیاب و کامران ہونے کے طریقے بچوں کو سکھائے گئے ہیں ۔ ’’اپنی حفاظت‘‘ اور ’’اچھا سبق‘‘ بھی اسی طرز کی نظمیں ہیں، جن میں بچوں کو آداب زندگی کے کچھ رموز و اسرار سے واقف کرایا گیا ہے اور انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ان پر عمل پیرا ہوکر کامیاب زندگی کی راہ پر چلیں۔کچھ اشعار ان نظموں سے ملاحظہ ہوں:
بدن ملو اور خوب نہاؤ
تھوڑی کسرت بھی کر آؤ
کھلی ہوا میں ٹہلو خوب
سب کے لیے بنو محبوب
دھیان لگا کر کرو پڑھائی
محنت کا پھل میٹھا بھائی
(اچھی عادت)
کرو آج کل پر نہ ٹالو
اپنی چیزیں خود ہے سنبھالو
صحت ہے اتّم گن وان
اچھے بچو ! بنو مہان
(بنو مہان)
بائیں طرف سڑک پر چلنا
راستہ اپنا دیکھا کرنا
چلتی بس پر کبھی نہ لٹکو
راہ سمجھ لو کبھی نہ بھٹکو
(اپنی حفاظت)
نشہ کرتا وقت خراب
عقل کا سوکھا کرے گلاب
نشے کا تھوڑی دیر مز
جیون بھر دے کڑی سزا
بچپن میں جو نشے سے بچتے
صحت مند ہمیشہ رہتے
(اچھا سبق)

بیکل اتساہی نے کچھ نظموں میںسائنسی موضوعات کو پیش کیا ہے۔ مثلاً ’’رات اور دن ‘‘ میں بچوں کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ رات اور دن کا کھیل کیا ہے، کس طرح سے رات اور دن بنتے ہیں۔ نظم ’’بھاپ‘‘ میں بھاپ اور اس کی طاقت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اس کی طاقت سے انجن بنا ،جو گاڑیوں کو کھینچ کر لے جا سکے۔ اسی طرح ایک نظم ’’خلا‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں خلا اور فلک کے بار میں بنیادی باتیں بچوں کو بتائی گئی ہیں۔ نظام شمسی کو اس نظم میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ موسم اور کشش ثقل پر بھی ایک ایک نظم بیکل اتساہی نے لکھی ہے۔ ’’کشش‘‘ نظم میں نیوٹن کی سیب والی کہانی کا ذکر ہے اور زمین کی کشش ثقل کی وضاحت آسان لفظوں میں کی گئی ہے۔ ’’موسم‘‘ نظم میں بچوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ کس طرح سال میں یہ چار موسم بنتے اور بگڑتے ہیں اور ان کا چکر کس طرح سورج کے گرد زمین کے چکر پورے کرنے پر موقوف ہے۔ ’’آلودگی‘‘ بیکل اتساہی کی ایک اچھی نظم ہے۔ اس میں آلودگی کے اسباب اور ان کا تدارک دونوں کو بیان کیا گیا ہے۔ آلودگی سے متعلق دو تین شعر دیکھیں:
تیز دھواں اور ہلہ شور
ہوا گندی چاروں اور
خالی جگہ پیڑ لگاؤ
گندی ہوا کا روگ مٹاؤ
سوچو سمجھو کرو وچار
صحت مند بنے سنسار
روگ گندگی سب مٹ جائے
پھر دنیا جنت بن جائے

سائنسی موضوعات کی حامل ان کی ایک نظم ’’دھرتی‘‘ بھی ہے۔ یوں تو یہ وسیع موضوع ہے کہ زمین پر گفتگو کی جائے، لیکن بچوں کی مناسبت سے بیکل اتساہی نے چند بنیادی باتوں پر اکتفا کیا ہے۔ انھوں نے زمین سے متعلق لازمی اور ضروری باتوں کوپیش کیا ہے۔ زمین کی گولائی کا علم کیسے ہوا، پہاڑ اور آتش فشاں کیسے بنے، اس زمین پر بحر و بر کی کیا کیفیات ہیں۔ ان جیسے موضوعات کو سہل انداز پیش کیا گیا ہے۔اسی سے ملتی جلتی ان کی دوسری نظم مٹی ہے۔ آخر یہ مٹی ہے کیا، اس کی رنگت کیا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے، انھیں جیسی باتوں کو بیکل اتساہی نے بحسن وخوبی اپنے محضوص لہجے میں پیش کیا ہے۔ایک نظم ’’اڑتی چڑیا ‘‘ کے نام سے ہے ،جس میں چڑیا کی اڑان اور اس کی پھدک کا تذکرہ ہے۔ یہ ایسی نظمیں ہیں جن کو بچے یاد کرکے گنگناتے رہیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو سنا کر ان کے دل بہلائے جاسکتے ہیں۔ ادب اطفال کی یہی خوبی ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کی نفسیات کا پابند ہو۔

ہوا سے متعلق بیکل اتساہی نے ایک اچھی نظم کہی ہے ۔ ہوا کہاںکہاں کیا کیا گل کھلاتی ہے، بیکل نے بڑے اچھے اور دلفریب انداز میں بیان کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
انگنائی میں آتی ہوا
کمروں میں چھپ جاتی ہوا
پیڑ خوشی سے مہکا کرتے
باغوں میں لہراتی ہوا
یہی نہ ہو تو سانس نہ آئے
جیون کو بہلاتی ہوا
راکٹ اور ومان اڑاتی
دنیا کو چونکاتی ہوا
بیکل بھیا کو چپکے سے
آب حیات پلاتی ہوا

آب حیات کا ذکر نظم بالا میں ہوا ہے۔ اس کے بعد کی نظم پانی پر ہی مشتمل ہے۔ جس میں پانی کی کیفیات اور اس کے وسائل اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ پانی کے فائدے و نقصانات سے بھی بچوں کو آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ آگ، پانی اورہوا کا ذکر عموما ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا بیکل اتساہی نے پانی اور ہوا پر نظمیں لکھنے کے بعد آگ پر بھی ایک نظم لکھی۔ اس نظم میں آگ کے لوازمات کا ذکر ہے۔ آگ کی خوبیاں اور اس سے ہونے والے حادثات کو بھی بیان کیا گیا ہے، گویا کہ بیکل جانتے ہیں کہ زندگی میں ان تین عناصر یعنی آگ، پانی اورہوا کی کیا اہمیت و افادیت ہے۔ اسی لیے انھوں نے بچوں کے لیے ان تین موضوعات پر نظمیں لکھ کر بچوں کے ذہن میں ان کی اہمیت جاگزیں کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان تینوں کی اہمیت زندگی کے ہر موڑ پر ہے۔ لہٰذا بچو ںکے ذہن اس کے لیے تیار رہیں۔نظم ’’آگ ‘‘ میں نہ صرف حقیقی آگ کا تذکرہ ہے، بلکہ مجازی آگ کے نقصانات سے بھی باخبر کیا گیا ہے۔ دو شعر دیکھیں:
مانوتا بھی خاک ہو گئی
آپس میں جب بھڑکی آگ
دھرم کے نام پہ لگی ہوئی
کون بجھائے ضدکی آگ

بیکل اتساہی نے اس طرح بچوں کی ذہن سازی کرنے کا طریقہ اختیا ر کیا ہے۔ ہماری زندگی میں آگ پانی ہوا بہت ضروری ہیں، ان کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں۔ لیکن ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں، جن سے واقفیت ضروری ہے۔ تاکہ یہ عناصر جو زندگی کے وجود کا سبب ہیں، زندگی کے ختم ہونے کی وجہ نہ بن جائیں۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا تھا کہ بیکل اتساہی نے چار پہیلیاں بھی لکھی ہیں۔ پہیلیوں سے بچوں کو خاص رغبت ہوتی ہے۔ کیونکہ بچوں کا ذہن متجسس ہوتا ہے، انھیں نئی نئی باتوں کے جاننے کی حرص ہوتی ہے ۔ لہٰذا وہ پہیلیاں پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان میں قرائن اور اشاروں کی مدد سے کسی چیز کو پہچانا جاتا ہے۔ بیکل اتساہی نے چاروں پہیلیاں ’’بوجھو تو جانیں‘‘ کے عنوان سے لکھی ہیں۔پہلی پہیلی سورج پر ہے۔ بیکل نے صبح ،دوپہر اورشام کو بچپن، جوانی اوربڑھاپے سے ، جبکہ ڈوب جانے کو موت یا سو جانے سے تعبیر کیا ہے۔ اس طرح وہ آخر میں کہتے ہیں:

آنکھ کھلی
پھر صبح ہوئی
پھر بچپن آیا
پھر تپتے ٹیلے کے ماتھے
ٹکی دوپہر
کھلی جوانی
شام ہوئی
پھر بوڑھا ہوں
میں سورج ہوں

بیکل کی دوسری پہیلی بوڑھے برگد پر مبنی ہے۔ اس بوڑھے برگد کے زیر سایہ کیا کیا خرابات اور عہد و پیمان ہوتے ہیں، امن و صلح کی باتیں ہوتی ہے، قتل و غارت گری کی اسکیمیں بنتی ہیں، انصاف کا قتل ہوتا ہے، غرض بہت ساری باتیں ہوتی ہیںاور یہ بوڑھا برگد پل پل صدیاں دیکھتا ہے۔ تیسری پہیلی کا جواب ہندوستان ہے۔ بیکل اتساہی نے اس نظم میں ہندوستان کی زمینی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ،یہاںہو نے والے واقعات و حادثات کو بھی بیان کیا ہے۔چوتھی پہیلی کا جواب مچھر ہے۔ اس میں اس کی عادتوں کا ذکر اس طرح کیا گیاہے، جیسے کوئی شخص ہے جو دن میں سوتا اور رات میں جاگتا ہے۔ اس کے سارے کام راتے میں ہوتے ہیں۔ بیکل اتساہی نے یہ نظم بہت سہل اور عام فہم انداز میں لکھی ہیں ۔ بچوں کے لیے لکھی گئیں یہ پہیلیاں بہت ہی سادہ اسلوب کی حامل ہیں، تاکہ بچوں کے ذہن تک ان کی رسائی میں کوئی دشواری نہ ہو۔

بچوں کے لیے لکھی گئی بیکل اتساہی کی تمام نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے جن موضوعات کو قلم بند کیا ہے، وہ بچوں کے لیے بہت مناسب اور ان کے ذہن کے مطابق ہیں۔ اور پھر ان موضوعات کوجس سادگی سے برتا گیا ہے وہ بھی قابل داد ہے۔ بچوں کی نفسیات ان کا ذہنی معیار ان کے نتیجہ اخذ کرنے کی قوت کو سامنے رکھ کر لفظوں کو انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ان تمام نظموں میں بیکل اتساہی کی خاص ادا اوران کا خاص رنگ بھر پور نظر آتا ہے۔ وہ جن لفظیات سے غزلوں اور گیتوں میں کھیلتے ہیں، بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں بھی ان کو سلیقے سے برتا گیا ہے۔ کچھ مثالیں دیکھیے:
یہ دوڑتی لہو سی ند یاں ہمارا جیون
ہرلہلہاتا جنگل انمول دھن ہمارا
دھرتی سنہری اپنی جنت نشاں جہاں کی
کچھ بھی کرے زمانہ من ہے مگن ہمارا
(ترانہ وطن)
دور وہ دیکھو مل کی چمنی جس سے دھواں نکلتا
لوہا گل کے چاندی بنتا پانی روپ بدلتا
وہ کھیتوں میں ناج لہلہاتا روٹی بن کر ڈھلتا
چھم چھم ناچیں جیون پریاں کیاری کیاری ہے
منے کی پھلواری ہے
(منے کی پھلواری ہے)
گول جیسی اپنی دھرتی
اک دھری پر گھوما کرتی
پچھم سے پورب کی اور
دھرتی گھومے جیسے چور
(رات دن)

مجموعی طور پر بیکل اتساہی غزل اور گیت کے شاعر ہیں، لیکن انھوں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں وہ بہت منفرد ہیں۔ ظاہر ہے انھوں نے ان پر وہ توجہ نہیں صرف کی جو اپنی غزلوں اور گیتوں پر کرتے تھے اگر وہ اس میدان میں بھی دل جمعی سے نظمیں کہتے تو یہ میدان بھی بہت زرخیز ہوتا۔ بہر حال جو کچھ انھوں نے لکھا ہے وہ قابل داد ہے اور معنویت سے بھر پور ہے۔

٭٭٭٭٭

(ماخوذ ازصریرِ خامہ- سلمان فیصل)

Tuesday, 21 January 2025

کرشن چندر کی رپورتاژنگاری – ڈاکٹر سلمان فیصل



رپورٹ اگر صحافتی اسلوب سے ایک قدم آگے بڑھ کر ادبی پیرایہ اظہار کا دامن تھام لے تو وہ رپورتاژ بن جاتی ہے۔صحافتی تحریر سے جب ادبی تحریر کی طرف رجوع کیا جائے تو صحافت اور ادب کے مابین رپورتاژ ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں رپورٹ کے عناصر کے ساتھ ساتھ ادبی خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ دیگر اصناف ادب میںرپورتاژ ہی صحافت سے قریب تر ہے۔ رپورتاژ گرچہ حقیقی واقعات پر مبنی ہوتا ہے لیکن اس کے اندر افسانوی ادب کی چاشنی کے ساتھ ساتھ ،مزاحیہ پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے، جس سے پڑھنے والوں کے لئے معلومات کے علاوہ ذہنی آسودگی بھی حاصل ہوتی ہے۔ رپورتاژ میں سفر نامے کی سی روداد سفر ہے تو اس کے اندر خاکہ نگاری کی خصوصیت بھی موجود ہے ۔ رپورتاژ میں اگر خطوط کی طرح دل کی ترجمانی ہے تو انشائیے کا اسلوب بیان بھی نظر آتا ہے۔ رپورتاژ میں افسانہ و ناول کے افسانوی کردار حقیقی کردار میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ رپورتاژ میں طنز اور مزاح بھی ہے اور یہ تاریخی واقعات اور حقائق سے بھی مملو ہوتا ہے۔ گویا کہ ایک رپورتاژ میں اصناف ادب کی بیشتر خصوصیات پنہاں ہیں۔ انھی خصوصیات کی وجہ سے رپورتاژ رپورٹ سے ممتاز و ممیز ہوجاتا ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں قلت دقت کا مسئلہ دامن گیر ہوتا ہے جبکہ رپورتاژ فرصت کے لمحات میں شعور و حواس کے اجتماع سے وجود میں آنے والی تحریر ہے ۔رپورٹ جہاں صرف خارجی ہوتی ہے وہیں رپورتاژ خارجی اور داخلی دونوں احساسات کا مجموعہ ہوتا ہے۔اک نوع سے ہم رپورثاژ کو تخلیقی حسیت کا آئینہ دار کہہ سکتے ہیں ۔

اردو ادب کی بعض دیگر اصناف کی طرح رپورتاژ بھی مانگے کا اجالا ہے یعنی یہ صنف بھی مغرب سے مستعار ہے یہ الگ مسئلہ ہے کہ اردو کے ادیبوں نے اس صنف کو اس طرح گلے لگایا کہ اب نہ صرف اس صنف میں اردو ادب کا ایک معتبر ذخیرہ سامنے آچکا ہے بلکہ لوگوں کی دلچسپی اور اس صنف کے تئیں ادیبوں کی ہنرمندیوں نے اسے قابل رشک بنا دیا ہے ۔

اردو رپورتاژ کے بنیاد گزاروں میں سجاد ظہیر اور کرشن چندرکا نام سرفہرست ہے۔ گویا کہ اردو رپورتاژ کی بنیاد ترقی پسند تحریک کے زیر سایہ رکھی گئی۔ لہذا اردو کے اولین اور نمائندہ رپورتاژوں میں ترقی پسندی کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔ ترقی پسند مصنفین کے جلسوں کی روداد کی اشاعتوں نے اردو میں رپورتاژ نگاری کی راہ ہموار کی ہے، کیونکہ یہ رودادیں ادبی پیرائے میں لکھی جاتی تھیں۔ ہفتہ وار اخبار ’’نظام‘‘ میں حمید اختر کی ترقی پسند مصنفین کے اجلاس کی رودادوں کو بہ شکل رپورتاژ بہت پسند کیا گیا۔ لیکن اردو میں پہلا رپورتاژ جس تحریر کو تسلیم کیا گیا وہ کرشن چندر کا ’’لاہور سے بہرام گلہ تک‘‘ ہے ۔ یہ رپورتاژ لاہور سے بہرام گلہ تک کے سفر کے روداد پر مبنی ہے۔ گرچہ یہ رودادِ سفر ہے لیکن اس تحریر سے اردو میں رپورتاژ کی مستحکم بنیاد پڑتی ہے۔ ’’لاہور سے بہرام گلہ تک‘‘ ایک ایسا رپورتاژ ہے جس میں کرشن چندر کے شگفتہ انداز بیان اور دلکش پیرایہ اظہار کے نمونے جا بجا نظر آتے ہیں۔ یہ کرشن چندر کی کتاب ’’طلسم خیال‘‘ میں ۸۲ تا ۱۰۴ صفحات پر مشتمل ایک مختصر رپورتاژ ہے ،جس میں کرشن چندر کی رومانی تحریروں کی سحر انگیزی ہے۔ اس رپورتاژ کا اسلوب بہت رواں، سلیس اور دلچسپ ہے ۔یہ کرشن چندر کے اسلوب بیان کا کمال ہی ہے کہ قاری ایک نشست میں اسے پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور اختتام پر قاری کا ذہن کشمیر کی مختلف وادیوں میں سیر کرنے لگتا ہے ۔ سیرِ کشمیر کی جس کیفیت کو کرشن چندر نے اس رپورتاژمیں بیا ن کیا ہے وہی کیفیت قاری پر بھی طاری ہونے لگتی ہے۔ کرشن چندر نے اس رپورتاژ میں قدرت کے مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ تاریخی حقائق اور تاریخی افسانوں کا ذکر بھی کیا ہے ۔اس میںمیرپور، پونچھ اور بہرام گلہ کے بارے میں تاریخی معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں ۔ پونچھ اور بہرام گلہ کے قلعوں اور وادیوں کے بارے میں کرشن چندر کاجادو بھرا انداز بیان حقیقت کا منظرنامہ پیش کرنے لگتا ہے ۔ ان قلعوں اور وادیوں کے خوش نما مناظر کی عکاسی اورجزئیات نگاری بہت ہی فن کارانہ ہے جو دلوں کو مسحور اور ذہنوں کو محظوظ کرتی ہے۔ بطور نمونہ ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

’’دوسرے دن سٹہرہ سے جو چلے تو شام کو شہر پونچھ پہنچ گئے۔ابھی شہر سے چار پانچ میل کے فاصلے پر تھے کہ ہمیں ریاست پونچھ کا یہ چھوٹا سا خوبصورت یہ تخت خوشنما باغات سے گھرا ہوا نظرآیا،سامنے سرسبز اور اونچے پہاڑوں سے گھری ہوئی ایک حسین وادی تھی جس کے بیچ و بیچ دریائے پونچھ کا نیلا پانی پتھروں پر شور مچاتا ہوا گزر رہا تھا۔ دور تک دھان کے وسیع کھیت پانی سے لبالب بھرے ہوئے نظرآرہے تھے۔ مرغابیوں کے خوشنما پر ہوا کے دوش پر پھیلے ہوئے تھے اور غروب آفتاب کی ارغوانی کرنوں میں پونچھ کا تاریخی قلعہ ایک اونچے ٹیلے پر شہر کی باقی عمارات سے اوپر اٹھا ہوا ایک ترشے ترشائے ہیرے کی طرح چمک رہا تھا۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ ہم ایک نالے کے قریب پہنچے جس پر نیلے پتھروں کا ایک چھوٹا سا پل بنا ہواتھا۔ پل کے پار چنار کے دو درخت کھڑے تھے۔ اب شہر بالکل نزدیک آگیا تھا۔ چھوٹا سا خوبصورت شہر، جو سامنے بہتے ہوئے دریا کے باہر واقع تھا۔ شفق کی ارغوانی روشنی بڑھتے ہوئے اندھیرے میں گم ہو گئی تھی اور شہر کی کھلی ہوئی کھڑکیوں اور درختوں کی پھیلی ہوئی ٹہنیوں میں بجلی کے قمقمے ٹمٹماتے ہوئے ستاروں کی طرح چمک رہے تھے۔‘‘(لاہور سے بہرام گلہ تک، مشمولہ ’طلسم خیال‘:کرشن چندر،ناشر:انڈین بک کمپنی لمیٹڈ، چرچ روڈ کشمیری گیٹ دہلی،سنہ اشاعت:ندارد،ص:۸۹)

کرشن چندر کا دوسرا رپورتاژ ’’پودے ‘‘ ہے۔ یہ ایک بیانیہ ہے جس میں خود کرشن چندر بحیثیت متکلم نہیں بلکہ ایک کردار کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ یہ رپورتاژ ۱۹۴۵ء میں حیدرآباد میں ترقی پسند مصنفین کی کل ہند کانفرنس کی رودادپر مبنی ہے۔ یہ رپورتاژ کا نفرنس کے انعقاد کے بہت بعد یادداشت کی بنیاد پر لکھا گیا تھا۔ کل ۱۴۴ صفحات پر مشتمل ’’پودے ‘‘ کی اشاعت پہلی بار ۱۹۴۵ء میں دیپک پبلشر جالندھر سے ہوئی ۔ سجاد ظہیر کا خطبۂ صدارت بھی شامل کتاب ہے۔ کرشن چندر نے ۱۳ تا ۳۲ صفحات پر مشتمل ایک طویل پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ یہ رپورتاژ نو عنوانات یعنی پوری بندر، گاڑی میں، حیدرآباد اسٹیشن، حیدرگوڑہ، اجلاس، پرانا محل ، بطخوں کے ساتھ ایک شام، واپسی اور منزل پر مشتمل ہے۔ ان مختلف عناوین کے تحت کرشن چندر نے مختلف واقعات، مشاہدات، تجربات، داخلی اور خارجی احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ اس رپورتاژ میں بھی کرشن چندر کی تخلیقی تحریروں کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے۔ اس میں بھی منظر کشی ہے، جزئیات نگاری ہے، کردار ہیں، مکالمے ہیں، غرض افسانوی تخلیقات کے عناصر اس میں ہر جگہ نظر آتے ہیں ۔ خلیل الرحمن اعظمی نے اس رپورتاژ کے بارے میں لکھا ہے کہ:

’’۔۔۔اس صنف ]رپورتاژ[ کو سب سے زیادہ مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب کرشن چندر نے اپنا مشہور رپورتاژ ’’پودے‘‘ لکھا۔ کہنے کو تو یہ حیدر آباد اردو کانفرنس کا سفرنامہ ہے لیکن اس میں کرشن چندر کی شخصیت اور وہ تمام ادیب جو ان کے ساتھ بمبئی سے اس کانفرنس میں شریک ہونے گئے تھے افسانے کے کرداروں کی طرح جاندار اور بھر پورنظر آتے ہیں یہی نہیں بلکہ راستے کے مناظر، ریل کے مسافروں کی نفسیات، کانفرنس میں ملنے والوں اور شریک ہونے والوں کا مرقع ،مہمانوں اور میزبانوں کا مشاہدہ غرض یہ رپوتاژ تمام واقعات کو ہو بہو ہمارے سامنے لاکھڑا کرتا ہے بلکہ مصنف نے اپنی تخلیقی قوت سے ان تمام بحثوں ، مکالموں، چٹکلوں اور دلچسپ لطیفوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہ واقعات ایک نئی اور بہتر صورت اختیار کرلیتے ہیں‘‘۔(اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، خلیل الرحمن اعظمی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، ۲۰۰۸، ص:۲۶۶۔۲۶۷)

پیش لفظ میں کرشن چندر نے ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند مصنفین کی تاریخ اور اس کے اغراض و مقاصد کا احاطہ کیا ہے۔ اس تحریک کی ابتدا اور اس کے ارتقا پر کرشن چندر نے گفتگو کی ہے اور آخر میں اردو کے مسئلے پر یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے:

’’ یہاں میں یہ بات نہایت صراحت سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں سمجھتا ہوں اور مجھے اس کی تاریخی ارتقاء کا مطالعہ ابھی تک اس بات پر مجبور کررہا ہے کہ میں اسے صرف مسلمان قوم کی زبان نہ سمجھوں۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس زبان کے غالب حصہ پر ہر مسلم قوم کی تہذیبی چھاپ ہے اور ہندوؤں نے اس کی ترویج و اشاعت میں بھی مسلمانوں سے کم حصہ لیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلانے سے خود فریبی کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ لیکن اس بدیہی امر کے باوجود اس بات کو بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ ہندوؤں نے اور اس ملک کی دوسری قوموں نے بھی اردو کی اشاعت میں، اسے پھیلانے میں، بڑھانے اور اپنانے میں ایک معتدبہ حصہ لیا ہے اور دوسری قومی زبانوں کی ترقی کے باوجود اور فرقہ وارانہ رجحانات کی افزائش کے باوجود اور اس بدنصیب ملک کی کوتاہ سیاست کے باوجود مسلمانوں نے اور ہندوؤں نے اور سکھوں نے اور دوسری قوموں نے سب نے مل کر اس کی ترقی کے لیے اپنے بہترین انسان کا لہو دیا ہے۔(پودے، کرشن چندر، دیپک پبلشرز جالندھر، اپریل ۱۹۶۴، ص:۲۸)

کرشن چندر آگے لکھتے ہیں کہ:

’’ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی مختلف قوموں کو حق خود اریت دینے کے باوجو اور دوسری صوبائی زبانوں کو پروان چڑھانے کے باوجود ایک ایسی زبان کی ضرورت باقی رہتی ہے جو اس ملک کی تمام قوموں کی زبان بن سکے۔ میرے خیال میں اردو اس ضرورت کو کماحقہ طور پر پورا کرتی ہے اور ہمیں تمام پریشانیوں اور دقتوں اور مزاحمتوں اور سیاسی مناقشات کے باوجود اس کی ترویج و اشاعت میں کوئی کسر نہ اٹھارکھنی چاہیے۔‘‘(یضاً۔ص:۲۹)

گویا کہ کرشن چندر نے اردو کو ایک رابطے کی زبان کے طور پر پیش کیا اور اصرار کیا کہ اس کے اندر موجود ہندوستان کی مشترکہ تہذیب تمام قوموں کو زبان کے ایک دھاگے میں باندھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس رپورتاژ میں سفر کی صعوبتوں، قیام گاہ کی آسائشوں، اجلاس کی کاروائیوں اور حسین شاموں کا تذکرہ بہت دلچسپ انداز میں کیاگیا ہے۔ طنز و مزاح کی پھلجھڑیاںپھوٹتی نظر آتی ہیں۔ ادیبوں اور شاعروں کی آپسی گفتگو اور نوک جھونک مزید برآں شگفتہ انداز بیان رپورتاژ کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ اس میں جابجا ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے مناظر، ہندوستانی طور طریقے اور آداب معاشرت کے نمونے جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ لیکن اس دلچسپ اندازِ بیان اور ہنسی مذاق میں کرشن چندر اپنے مطلب کی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں ۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ (یہ بھی پڑھیں

’’راجہ شامراج کا محل- پرانا محل- شہر میں واقع ہے۔ اونچی فصیل کے اندر ایک خوشنما باغیچہ ہے ۔ باغیچے میں ایک مور ناچ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی بڑی لائبریری اتنی اچھی لائبریری ہر موضوع پر کتابیں جنھیں غالباً آج تک کسی نے کھول کر پڑھا نہ تھا۔ پوری لائبریری میں صرف دو بچے پڑھ رہے تھے۔ یہ سنگ مرمر کے مجسمے تھے اور ایک سنگ مرمر کی کتاب کھولے ہوئے اس پر جھکے ہوئے تھے۔ اور نہ جانے کتنے سال سے اس طرح جھکے ہوئے اسی کتاب کے اسی صفحے کو پڑھ رہے تھے۔ یہ سنگ مرمرکی کتاب ، یہ سنگ مرمر کے محل، لیکن ہم لوگ یہاں کیا کررہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کمرہ اشتراکیت کے موضوع سے متعلق تھا۔ یہاں ہزاروں کتابیں جمع تھیں۔ مصائب ہمیں اس طرح دیکھ رہے تھے۔ گویا ہم تماشہ ہوں، اور وہ تماشائی ۔ ان کی نظریں گویا کہہ رہی تھیں تمھارے ایسے سینکڑوں لوگ یہاں آتے ہیں اور دعوت کھا کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہاں ہم ادیبوں کو بلاتے ہیں اور سرکس والوں کو بھی اور مداریوں کو، اور مسخروں کو، یہاں سیاح آتے ہیں اور بھک منگے بھی اور سیاست داں بھی ۔ ہمارے راجہ صاحب بہت اچھے ہیں۔ لیکن ان کے اچھا ہونے سے آپ لوگ اچھے نہیں ہوسکے۔ سردار صاحب آپ کی قمیض پھٹی ہوئی ہے۔ آپ کی شیروانی کا بٹن غائب ہے، سبطے میاں۔ قدوس صاحب آپ نے یہ جھولا کیسے لٹکا رکھا ہے۔ مہندر بھائی آپ نے سر پر یہ جنگل سا کیا لگا رکھا ہے۔ کرشن صاحب آپ کی پتلون پر دس پیوند ہیں آپ لوگ یہا ںکیا کھا کر ترقی پسندی کا دعوی کریں گے۔۔۔۔۔۔سامنے مور ناچ رہا ہے۔‘‘ ((پودے، ص:۱۰۴۔۱۰۷)

اس اقتباس میں کرشن چندر نے سرمایہ داروں اور اشتراکیوں کا تذکرہ بہت فن کارانہ طریقے سے کیا ہے۔ مختلف علامات کے استعمال کے ذریعے کرشن چندر نے سرمایہ داریت اور اشتراکیت کی کئی باریکیوں کو بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ باتوں باتوں میں ہی کرشن چندر نے ترقی پسند ادیبوں کی حالت زار کو بھی پیش کردیا ہے۔

’’صبح ہوتی ہے‘‘ کرشن چندر کا تیسرا رپورتاژ ہے۔ یہ ۱۹۵۰ء میں کتب پبلشر بمبئی سے شائع ہوا۔ اس کتاب کا ایک بوسیدہ نسخہ دہلی یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں موجود ہے۔غالباً اس کے بعد اس کی اشاعت ثانی نہیں ہوئی ہے۔ یہ رپورتاژ کیرلہ کے تریچور علاقے میں منعقدہ جنوبی ہند کے ممتاز ترقی پسندادیبوں کی کانفرنس کی روداد پر مبنی ہے۔ لیکن کانفرنس کی روداد بہت مختصرہے جبکہ کیرلہ کے سفر کی روداداور وہاں کی وادیوں کا دلفریب و دلچسپ اور حسین بیان ہے، اس رپورتاژ میں کرشن چندر نے کیرلہ کے کسانوں اور مزدوروں کی کئی کہانیاں بیان کی ہیں جو کردارہیں وہ حقیقی کردار ہیں۔ اس رپورتاژ میں کیرلہ کے مختلف اسفار کے دوران پیش آنے والے واقعات اور لوگوں سے حاصل ہوئی معلومات کی فراوانی ہے۔ کرشن چندر نے بمبئی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں سیٹ کی بکنگ سے رپورتاژ کاآغازکیا ہے، جو کہ بہت دلچسپ ہے اوریہی دلچسپی قاری کومزید پڑھنے پر اکساتی ہے۔یوں تو رپورتاژ میں کرشن کی سحر انگیز تحریر قاری کی قرأت میں یکسوئی کو ختم نہیں ہونے دیتی ہے اور قاری کے ذہن کا تجسس ہی اس تحریر کو آگے پڑھنے پر مجبور کرتا ہے ۔ کرشن چندر نے کیرلہ کے کئی مقامات کی منظر کشی کی ہے جس سے قاری کے ذہن میں کیرلہ دیکھنے کی خواہش بھی ابھرتی ہے۔ تریچور، الوائی، تری وندرم، کوئی لون، الپی اور کنیاکماری سمیت کئی مقامات کا تذکرہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں

دوران سفر کرشن چندر کی ملاقات کئی پادریوں سے ہوئی کرشن چندر نے ان ملاقاتوں کو دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے اور باتوں باتوں میں انگریزوں پر طنز بھی کیا ہے۔ اس سلسلے کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔

’’میں نے پوچھا۔ فادر تمھیں شکار کا بہت شوق ہے؟

اسکا گول گول بچوں کا سا چہرہ کھل اٹھا، بولا ’’تری میندوس‘‘

میں نے کہا، فادر تم فرانسیسی ہوکہ اطالوی؟

وہ بولا۔ میں ڈچ ہوں، مجھے یہاں آئے ہوئے تیس سال ہوگئے۔

تیس سال اسی حلقے میں گذر گئے؟میں نے گاڑی سے باہر اشارہ کیا۔

وہ سر ہلا کے بولا۔ہاں، مجھے یہ جگہ بہت پسند ہے، یہاں شکار بہت اچھا ملتا ہے، ریچھ، شیر، چیتے، سور، ہرن، ہر طرح کا شکار ملتا ہے، مگر نہیں ملتا ہے تو بس ایک ہاتھی نہیں ملتا ہے اس علاقے میں۔

میں نے کہا فادر! تم غلط کہتے ہو، ہاتھی تو یہاں بھی ملتا ہے،مگر تم نے کبھی اسے شکار کرنے کی کوشش نہیں کی، تم ہمیشہ غریب آدمیوں کا شکار کرتے رہے اور ہاتھیوں کو جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا، ورنہ ہاتھی تو ہندوستان ہی میں ملتا ہے اور نیچے جاؤ تو سیلون میں بھی ملے گا، برما میں بھی اور ملایا میں بھی، ہاتھی انڈونیشیا میں بھی ملتا ہے، مگر ہاں اسکارنگ سفید ہوتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سفید ہاتھی بڑا متبرک ہوتا ہے، اور بڑی مشکل سے ملتا ہے، مگر میرا تو یہ خیال ہے کہ ایشیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں یہ سفید ہاتھی نہ ملتا ہو۔ حد تو یہ ہے کہ اب یہ سفید ہاتھی عرب، عراق ، سیریا، اور فلسطین کے ریگستانوں میں بھی ملنے لگا ہے۔ جہاں جہاں تیل کے چشمے ہیں، لوہے کی کانیں ہیں، ربڑ اور چائے کے باغات ہیں وہاں یہ سفید ہاتھی پایا جاتا ہے۔‘‘(صبح ہوتی ہے، کرشن چندر، کتب پبلشرز بمبئی ،۱۹۵۰، ص:۲۷۔۲۸)

اس اقتباس میں ہاتھی کی علامت کے ذریعے سرمایہ داروں اور انگریزوں پر طنز اور دنیا کی ہر اس جگہ کا ذکرکرشن چندر نے بہت خوبی سے کیا ہے جہاں تک ان کی پہنچ ہے اور سرمایہ داریت کو تقویت ملتی ہے ۔ اس قسم کی باتیں اور طنز کرنے کی مثالیں اس رپورتاژ میں بہت ہیں۔ جگہ جگہ کرشن چندر نے کمیونسٹ عقائد اور ترقی پسند نظریہ کی عینک سے چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے اور برجستہ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مذہبی پیشواؤں پر طنز کرتے ہوئے کرشن چندر لکھتے ہیں کہ ’’جب مذہب کے سہارے عوام کو لوٹا جاسکتا ہے، گولی چلانے کی کیا ضرورت ہے۔ گولی تو اس وقت چلائی جاتی ہے جب اپنے منافع کھرے ہونے کا اور کوئی ذریعہ سمجھ میں نہ آتا ہو۔‘‘ (صبح ہوتی ہے،ص۔۳۷)

کرشن چندر نے اس رپورتاژمیں پریس کی آزادی پر بھی گفتگو کی ہے ۔حکومت کے دباؤ اور سختی و پابندی کے باوجود اخبارات نکلنا ترقی پسندی کی علامت ہے کیونکہ اخبارات جمہور کے ہوتے ہیں اور جمہور کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے۔ کرشن چندر کے ان خیالات کو ذیل کے اقتباس میں ملاحظہ کیجیے۔

’’جمہور کا اخبار کبھی نہیں مرتا ہے۔ اس کے اتنے ہی نام ہوتے ہیں۔ جتنے عام لوگوں کے نام ہوتے ہیں۔ وہ نام بدل بدل کے سامنے آتا رہتا ہے، اور بازاروں، اور گلیوں اور کوچوں میں اپنی صدا سناتا رہتا ہے۔ اور جب زمین کے اوپر جمہور کے دشمن اپنی طاقت سے اس کے لیے قانون کے سارے دروازے بند کردیتے ہیں۔ تو یہ اخبار زمین کے نیچے چلا جاتا ہے، اور پھر وہاں سے اک ہری کونپل کی طرح پھوٹتا ہے، اور دوسرے روز اس کے صفحے عوام کے دلوں میں پھیلتے جاتے ہیںاور اس کی صدا گلیوں اور کوچوں اوربازاروں میں پھر سے سنائی دینے لگتی ہے، اور لوگ سرگوشیوں میں اسکا چرچا کرتے ہیں، اور طالب علم اور مزدور اور کسان اپنے وطن کی بھلائی چاہنے والے محب الوطن اسے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے جاتے ہیں جیسے شمع سے شمع جگمگا اٹھتی ہے۔ جیسے تبسم سے تبسم چمک اٹھتا ہے۔ اسی طرح سے جمہور کا اخبار عوام کے دلوں کو انقلاب کی ضو سے جگمگاتا ہوا چاروں طرف پھیل جاتا ہے اور پہرے داروں سے گھرے ہوئے بند کمروں کے اندر ظالم چونک اٹھتے ہیں۔ یہ اخبار پھر زندہ ہوگیا۔ ارے ہم نے تو اسے قتل کردیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج یہ پھر زندہ ہے اور اخبار کے الفاظ ان کی آنکھوں کے سامنے اک فاتحانہ مسرت سے رقص کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ہم نہیں مرسکتے۔ کیونکہ ہم عوام کے الفاظ ہیں، اور کوئی ہمیں خرید نہیں سکتا ہے اور کوئی بیچ نہیں سکتا ہے۔‘‘(صبح ہوتی ہے،ص۔۹۶۔۹۷)

کرشن چندر نے اس رپورتاژ میں جگہ جگہ کئی حسین مقامات کا ذکر خوبصورت انداز میں کیا ہے اور کرشن چندر کی یہ خاصیت ہے کہ وہ صرف مناظر، تعمیرات، اور واقعات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنے نظریات اور عقاید کو بھی پیش کرتے ہیں۔ اس منظر کشی کے دوران وہ ماضی کی یادوں کو کریدتے ہیں۔ حال کا جائزہ لیتے اور حسین مستقبل کے لیے ان کے دل میں جذبات کے گہرے سمندر کی موجیں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں، کنیا کماری کے ساحل پر غروب آفتاب کا ایک حسین اور دلکش منظر ملاحظہ کیجیے۔

’’سورج کنیا کماری پر غروب ہورہا تھا۔ کنیا کمار ی جہاں مشرقی اور مغربی گھاٹ دونوں آکے مل جاتے ہیں۔ کنیا کماری جہاں تین سمندر آکے گلے ملتے ہیں بحر عرب ، بحر بنگال، بحر ہند۔ اور یہ تینوں سمندر ایک عظیم الشان نیم دائرے میں پھیلے ہوئے ہیں، اور بیچ میں زمین کی آخری نوک ہے اور کنیا کماری کی گلابی ریت پر تینوں سمندروں کی لہریں ایک دوسرے کے گلے مل کر مچل مچل کر رقص کر رہی ہیں۔

’’کنیا کماری کی آخری چٹان پر کھڑا ہوکے میں سامنے بحر ہند کو دیکھتا ہوں جو انسان کی ترقی کی طرح ناپید کنارہ ہے۔ پھراس مغرب کی سمت سے آنے والے بحر عرب کو دیکھتا ہوں جس نے آٹھ سو سال پہلے میرے ملک میں اک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ جہاں سے ایک ہزار سال پہلے مسیح کے چیلے اس ساحل پر آئے تھے۔ جہاں سے بارہ سو سال پندرہ سو سال پہلے ہند کی کشتیاں اور جہاز روم کو گئے تھے، روم اور وینس اور یونان کی سمت سے تہذیبیں ادھر سے ادھر آئی تھیں اور ادھر سے ادھر گئی تھیں، اور مذہبوں ، خونوں اور تہذیبوں کی آمیزش ہوئی تھی۔

پھر میں مڑکر مشرق کی جانب دیکھتا ہوں بحیرہ بنگال مشرق کی ہوائیں لاتا ہے ۔برما، سیام، ملایا، ہند چینی، اور چین کی فضائیں لڑاکے گیت گاتی ہوئی امڈتی چلی آتی ہیں۔ وہاں بھی گیت ، دیش ، قومیں ، مذہب اور تہذیبیں چھینی گئی تھیں۔ وہاں بھی کسانوں سے زمین، مزدوروں سے کارخانے ہتھیا لئے گئے تھے۔ وہاں بھی بدیسی بندوقوں سے گیتوں کا گلا گھونٹا تھا۔ ادیبوں کے گلے پر چھری رکھی تھی، اور ان کی کتابوں کوآگ لگائی تھی۔

تینوں سمندر مل گئے۔ عرب ، ایران اور ہندوستان ایک ہوگئے۔ ریت کے آخری ذروں پر بھی پانی کی موج ظفر یاب آگئی۔ اور ہنستے ہنستے کہنے لگی کام کرنے والوں کا کوئی ملک نہیں ہوتا۔ کوئی رنگ نہیں ہوتا کوئی مذہب نہیں ہوتا وہ سب انسان ہوتے ہیں، اور ساری دنیا کے وارث ہوتے ہیں۔‘‘(صبح ہوتی ہے،ص: ۱۱۶،۱۱۷،۱۱۸)

یہ اقتباس صرف ایک منظر کشی پر مبنی نہیں ہے بلکہ کرشن چندر نے اس میں تاریخ کے سیکڑوں اور اق سمودیے ہیں۔ کئی ملکوں کی تاریخ کا فلیش بیک سیکنڈوں میں پیش کردیا ہے۔الغرض کرشن چندرجہاں صف اول کے ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں وہیں وہ رپورتاژ کے مستحکم بنیادگزار بھی ہیں۔ ان کے یہ تینوں رپورتاژ وہ ٹھوس بنیاد ہیں جن پر آگے چل کر اردو رپورتاژ کی پائیدار عمارت کی تعمیر عمل میں آتی ہے۔ جب بھی رپورتاژ کا تذکرہ ہوگا تو سب سے پہلے کرشن چندر کے رپوتاژوں کا ذکر آئے گا۔ یہ صرف رپوتاژ ہی نہیں بلکہ ترقی پسند مصنفین کی تاریخ کی ایک جھلک بھی ہے۔ اس میں سرمایہ داریت اور اشتراکیت کی کشمکش بھی نظرآتی ہے۔ ہندوستان کے حسین مناظر کا تذکرہ ہے تو مزدوروں اور کسانوں کی حالت زارکو بھی بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے اندر ہندوستان کی مشترکہ تہذیب بھی ہے۔ گویاکہ کرشن چندر کے یہ تینوں رپورتاژ کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت سے انکارممکن نہیں۔

٭٭٭٭٭

(صریرِ خامہ- سلمان فیصل)

Tuesday, 14 January 2025

داغ کی مثنوی ’’فریادِ داغ‘‘ – ڈاکٹر سلمان فیصل

نواب فصیح الملک بہادر مرزا دا غ دہلوی کی شہرت دوام اور ادبی مقام ان کی غزلیہ شاعری کی رہین منت ہے۔ جو کہ دہلوی رنگ کی شاعری کے اختصاص سے متصف ہے۔ گرچہ داغ دبستان دہلی سے وابستہ نمائندہ شاعرہیں تاہم داغ دہلوی اپنے آپ میں ایک دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ داغ کے شاگردوںکی ایک کثیر تعداد اس دبستان کی نمائندہ ہے۔ داغ دہلوی کا جو شعری سرمایہ ہے وہ چار دیوان گلزار داغ، آفتاب داغ، مہتاب داغ اور گلزار داغ کے علاوہ مثنوی فریاد داغ ہے۔ مزید برآں داغ دہلوی نے چند قصائد ، چند قطعات اور رباعی کے علاوہ دلی کی تباہی پر ایک شہر آشوب بھی لکھا ہے۔


داغ نے قلعہ معلی دہلی میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور ذوق کے شاگرد ہوئے۔ ۱۸۵۷ میں غدر کے بعد داغ دہلوی رام پور آگئے اور یہیں زندگی کے تقریباً تیس سال رام پور میں آرام سے گذارے۔ قیام رام پور کے دوران ان کے دو دیوان گلزار داغ اور آفتاب داغ منظر پر عام پر آئے اور ان کی شاعری کی شہرت پورے ہندوستان میں ہونے لگی۔ داغ دہلوی کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر سیدعبداللہ لکھتے ہیں:

’’یوں تو داغ کے خصائص شعری میں وہ زبان خاص بھی ہے جو قلعہ معلی دہلی سے ذوق و ظفر کی صحبتوں سے حاصل کرکے لائے تھے۔ اور وہ جلی کٹی، طعن و تشنیع، فقرے بازی اور طنز و تعریض بھی ، جس کی مثال اردو شاعری میں شاذ و نادر ہی ملے گی، مگر ان کے کلام کو پڑھ کر یہ نقش ضرور ذہن نشین ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسا شاعر ہے جس کی آواز اردو کے دوسرے شاعروں کے برعکس دل کو غمگین و حزین بنانی کی بجائے قدرے خوشی، تازگی اور فرحت کا اثر پیدا کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داغ کے اشعار پڑھ کر ان دونوں ]انشاء اور جرأت[کے بالکل برعکس یہ اثر پیدا ہوتا ہے کہ اس شاعر کا بیان زندگی کے مسلسل اور پیہم تجربات نشاط کی ترجمانی کر رہا ہے اوریہ وہ کبھی کبھی والی بات نہیں بلکہ اس کا مسقتل مشرب ہے۔ یعنی نشاط اور زندہ دلی اس کی زندگی کا ایک تجربہ بھی ہے اور مشن بھی جس کی صحیح تشریح اس کا یہ شعر کررہا ہے۔


دن گزارے عمر کے انسان ہنستے بولتے

جان بھی نکلے تو میری جان ہنستے بولتے‘‘
(ولی سے اقبال تک ، ڈاکٹر سید عبداللہ، بک کارپوریشن دہلی،۲۰۰۷، ص: ۲۵۰)

داغ دہلوی کی شاعری کے تعلق سے ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی کا ایک اقتباس اور ملاحظہ کیجیے۔
’’معاملہ بندی کے واقعات جس شوخی، چلبلے پن، صفائی اور رومانی کے ساتھ داغ باندھتے ہیں وہ کسی ایک کے حصے میں نہ آئے اور یہی داغ کا اپنا انفرادی اور انوکھا رنگ ہے۔ ہمیشہ تازہ ، ہمیشہ شگفتہ اور طباع میں گدگدی اور لطف پیدا کرنے والا۔ معاملہ بندی کے مضامین جرأت نے بھی باندھے تھے لیکن داغ کی جلی کٹی، طعن و تشنیع، رشک و بدگمانی چھیڑ چھاڑ لاگ ڈانٹ، چھین جھپٹ والے مضامین وہاں کہاں۔ داغ کی شاعری کا عاشق بھی چلبلا اور معشوق بھی چلبلا ہے ۔ دونوں طرح دار، طبیعت دار اور طرار ہیں۔‘‘ (دلی کا دبستان شاعری، نورالحسن ہاشمی، اتر پردیش اردو اکادمی، ۲۰۰۹، ص: ۳۵۷۔۳۵۸)

نورالحسن ہاشمی نے آگے لکھا ہے کہ
آخر عمر میں البتہ جوانی کے جوش سرد ہوجانے اور کسی اکھاڑے کے نہ ہونے کے باعث لکھنوی شعرا کی طرح محض الفاظ اور محاورے کی نشست دکھانے کی خاطر اشعار کہنے لگے تھے ورنہ ان کا رنگ وہی گرما گرمی چھین جھپٹ کا جو اُن کے ساتھ خاص ہے۔‘‘(دلی کا دبستان شاعری، نورالحسن ہاشمی، ص: ۳۵۸)
داغ دہلی کی شاعری کی ان خصوصیات کے ساتھ ان کی مثنوی فریاد داغ کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ یہ مثنوی رام پور میں لکھی گئی جو ان کی جوانی اور جوش کے ایام تھے جس دور میں ان کی شاعری میں گرمی زیادہ تھی۔داغ دہلوی نے یہ مثنوی فریاد داغ ایک طوائف کے عشق میں گرفتار ہونے کے بعد کہی تھی ۔ وہ طوائف کلکتہ کی منی بائی حجاب تھی جو۱۸۸۱ میں رام پور میلہ بے نظیر گھومنے آئی تھی۔ داغ دہلوی اس طوائف سے رام پور کے میلہ بے نظیر میں آمنا سامنا ہونے کے سبب اس پر فریفتہ ہوگئے تھے اور اس کے فراق میں ۱۸۸۲ میں کلکتہ کا سفر بھی کر آئے تھے۔ ۱۸۸۳ میں یہ مثنوی شائع ہوئی۔ داغ نے اپنی خودنوشت جلوۂ داغ میں لکھوایا ہے کہ

’’ذود گوئی کا ادنی ثبوت یہ ہے کہ فریاد داغ جیسی بے مثل مثنوی صرف دو دن کی معمولی فکر کا نتیجہ ہے۔‘‘(جلوۂ داغ ، احسن مارہروی،مطبع شمسی حیدرآباددکن،۱۹۰۳ء ،ص:۱۱۴)
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ داغ دہلوی ذودگو شاعر تھے مگر حیرت یہ ہے کہ ۸۳۸ ؍اشعار مبنی یہ مثنوی محض دو دن میں لکھی گئی۔ داغ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حیدرآبار کے قیام کے دوران باتوں باتوں میں دو دو چار چار غزلیں لکھوا دیا کرتے تھے۔ لہٰذا عشق کے جنون نے ان کی ذودگوئی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو دن کے اندر ۸۳۸؍ اشعار پر مشتمل یہ مثنوی صفحہ قرطاس پر اتروا دی۔

اس مثنوی میں داغ نے مختلف ذیلی عنوانات قائم کرکے مثنوی کے ارتقا کو جاری رکھا ہے۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ابتدا حمد و نعت سے کی ہے اور منقبت سے مثنوی کو آگے بڑھا یا ہے
حمد ہے عشق آفریں کے لیے
نعت ہے ختم مرسلیں کے لیے
السلام اے چہار یار کبار
السلام اے ائمہ طہار
اس کے بعد نواب کی مدح میں چند اشعار کہے ہیں۔ اس وقت رام پور کے نواب کلب علی خاں تھے جنھوں نے داغ کو اپنا مصاحب بنا لیا تھا اور داروغہ اصطبل مقرر کیا تھا۔ نواب کی مدح کے ساتھ ان کی اور شہر رام پور کے آباد و شاد رہنے کی دعا بھی کی ہے۔
مسند آرائے رام پور رہیں
تاقیات مرے حضور رہیں

ہے عجب شہر مصطفی آباد
اس کو رکھنا مرے خدا آباد
سب اسے رام پور کہتے ہیں
ہم تو آرام پور کہتے ہیں
خیر نواب کی مناتے ہیں
جس کا کھاتے ہیں اس کا گاتے ہیں

اس کے بعد عشق کی تعریف کے عنوان کے تحت 33اشعار قلمبند کیے ہیں جن میں متعدد اور مختلف زاویوں سے عشق کی تعریف کی ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی کا بیان ہے۔ عشق کی ضرورت کیوں ہے اور عشق کے فائدے کیا ہیں ان سب کے بارے میںداغ نے اپنے انداز میں بیان کیا ہے چند اشعارملاحظہ ہوں
عشق نعمت ہے آدمی کے لیے
عشق جنت ہے آدمی کے لیے

عشق کیا کیا بہار دیتا ہے
یہ دلوں کو ابھار دیتا ہے

بزدلوں کو دلیر کرتا ہے
یہ دلیروں کو شیر کرتا ہے

عشق سے آدمیت آتی ہے
آدمی کو مروت آتی ہے

داغ دہلوی نے عشق کی تعریف کے بعد ساقی نامہ لکھا ہے جو 22 اشعار پر مشتمل ہے بعد ازاں عشق کی ابتدا کے عنوان سے جو اشعار کہے گئے ہیں ان میں داغ نے عشق سے قبل کی پرسکون صورتوں اور حالتوں کو بیان کرتے ہوئے عشق کی ابتدا اور اس کے عوض ملنے والی بے چینی کا ذکر کیاہے اور پھر عشق سے توبہ کرنے کا بیان ہے لیکن
عشق مدت سے تھا جو ناپیدا
اس نے پھر ولولہ کیا پیدا

پھر ہوئیں دل میں حسرتیں آباد
نالے دینے لگے مبارکباد
صبر یاروں کا یار تھا نہ رہا
جبر پہ اختیار تھا نہ رہا

اب وہ دکھ دردروز بھر تا ہوں
اس زمانے کو یاد کرتا ہوں
داغ دہلوی نے مثنوی کو آگے بڑ ھا تے ہوئے محبوب سے پہلا آمنا سامنا کس طرح ہوا اس کا ذکر بہت دلگداز اور دل فریب انداز میں کیا ہے اور حجاب سے بے حجاب ہونے کے سبب داغ کے دل کی کیفیت میں جو تبدیلی پیدا ہوئی اور سکون غارت ہوا اس کا ذکر ہے

دل کو میں ڈھونڈتا رہا نہ ملا


آنکھ ملتے ہی پھر پتا نہ ملا


اور داغ کی اس حالت پر اس کے یار پریشان ہیں کہ آخر یہ کیا ماجرا ہوا آخر


کس قیامت نے پائمال کیا


سحر بنگالہ نے حلال کیا؟


اس بلا سے نکالنا اس کو


یاالہی سنبھالنا اس کو


جب داغ کو حجاب سے عشق ہوگیا اوراس کی موہنی صورت پر مر مٹے تو داغ کی طبیعت میں اچھال آیا ،اپنا آپا تو کھو بیٹھے مگر معشوق کا سراپا لکھ بیٹھے۔ معشوقہ کی تعریف میںکئی اشعار کہہ ڈالے اس کی تعریف میں داغ نے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا۔


ہوش آیا تو میں نے کیا دیکھا


اک پری چہرہ خوش ادا دیکھا


رخ سے ظاہر تھا نور کا عالم


اور اس پر غرور کا عالم


سج دھج آفت، غضب تراش خراش


کسی اچھے کی، دل ہی دل میں تلاش


شوخیاں ہیں حجاب میں کیسی


لن ترانی ہے جواب میں کیسی


کہہ دیا ،دل کا حال باتوں میں


نہ رہا کچھ خیال باتوں میں


داغ دہلوی نے حجاب سے ملاقات کا ذکر اور دوران گفتگو ہونے والی قلبی واردات کا ذکر خوش اسلوبی سے کیا اور جب کہ عشق میں ہجر لازمی ہے ، معشوقہ کی روانگی داغ کے لیے ہجر کی گھڑی ہے۔’معشوقہ کی روانگی‘ کے عنوان سے داغ نے حجاب کے واپس کلکتے لوٹنے کا ذکر کیا ہے اور اپنے دل کی کیفیت کو دوستوں کو سامنے رکھا اور پھر جدائی کی گھڑیاں جس کرب اور پریشانی، بے چینی اور بے سکونی میں داغ نے گزاری ہے، ان کیفیات کو اشعار کے قالب میں ڈھال کر جدائی کے عنوان سے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں


ہجر باعث ہے خستہ جانی کا


ہجر دشمن ہے زندگانی کا


کسی کروٹ کل نہیں آتی


نہیں آتی اجل نہیں آتی


جی بہلتا نہیں کسی صورت


دم نکلتا نہیں کسی صورت


داغ دہلوی نے اس طویل مثنوی میں عاشق کی تصویر سے معشوق کی مخاطبت، معشوقہ کی میلے میں دوبارہ آمد، داغ سے ملاقات اور پھر واپسی ان تمام واردات کا داغ نے تفصیل سے ذکر کیا ہے معشوقہ کے واپس ہونے کے بعد کلکتہ میں داغ کو بلانا، مثنوی کی ارتقائی صورت حال ہے۔ معشوق سے خط و کتابت جاری رہنا اور کلکتہ بلائے جانے کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے داغ کا کلکتہ جانا مثنوی کا اختتامیہ ہے۔ "کلکتے کو جانا” کے عنوان سے داغ نے تقریبا دو سو اشعار کہے ہیں اس اختتامیے میں داغ نے دوران سفر کے حالات اور متعدد مقامات بالخصوص دلی، لکھنو، الہ آباد ، عظیم آباد وغیرہ کا ذکرکیا ہے اور وہاں لوگوں سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر خاص طورسے شامل ہے


سوئے کلکتہ میں روانہ ہوا


دور تک ساتھ اک زمانہ ہوا


شوق بے اختیار لے ہی گیا


یہ دل بے قرار لے ہی گیا


آئی ایسی ہوائے کلکتہ


دل پکارا کہ ہائے کلکتہ


شہر میں دھوم تھی کہ داغ آیا


داغ آیا تو باغ باغ آیا


مثنوی کے اس آخری حصے میں داغ نے کلکتہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے وہاں کے مقامات کا بیان، وہاں کی رونقیں، وہاں کی شوخیاںاور سحر بنگالہ کا ذکر بہت تفصیل سے ہے۔ وصال یار کی قلبی واردات کا حسین مرقع اس میں نظر آتا ہے


بخت بیدار ویار ہے دمساز


اے شب وصل تری عمر دراز


صبح سے شام تک جمال کے لطف


شام سے صبح تک وصال کے لطف


غم کی راتیں، نہ تھے ملال کے دن


کیا پھرے تھے شب وصال کے دن


محفل عیش کا بندھا وہ سماں


دیکھے پھر پھر کے جس کو عمر رواں


محفل نشاط سے رخصتی اور رنج و غم کی کیفیت سے پر مضطرب دل کے ساتھ رام پور واپس آئے۔ واپسی کے بعد جو طبیعت پر گرانی تھی اس کا ذکر والہانہ انداز میں کیا گیا۔ داغ کی یہ مثنوی ایک عشقیہ داستان ہے جو خود داغ کی ہے۔ اس لیے اس کے اندر پیش کیے گئے واقعات اور حالات کا حقیقت سے قریب تر ہونا زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ داغ نے اپنی شاعری کی جولانی طبع کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ اور اپنی شاعری کے جوہر کو اس میں نمایاں طور پر واکیا ہے۔٭٭٭٭

Monday, 13 January 2025

اردو محققین کے پیش رو : سر سید احمد خاں

 

اردو زبان و ادب کے ارتقا، وسعت، تنوع اور تبدیلیوں میں تحریکوں اور رجحانات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔انھیں تحریکوں اور رجحانات کے زیر سایہ اردو زبان و ادب کی پرورش و پرداخت ہوئی اور انھیں کے زیر نگرانی اس کے حسن میں نکھار آیا جس نے پوری دنیا کو مسحور کردیا اور لوگ اس کے دامِ سحر میں گرفتار ہونے لگے۔جن دو تحریکوں نے اردو زبان ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک ہے۔ علی گڑھ تحریک ہی نے اردو نثر کو مسجع و مقفی کی بیڑیوں سے آزاد کرایا اور اس میں سب سے اہم رول بانیِ علی گڑھ تحریک سر سید احمد خاں کا ہے۔غالب کی مسجع ومقفی سے پاک آسان اور سادہ مکتوب نگاری کے بعد سر سید احمد خاں نے اسی سادہ سلیس ، عام فہم اور آسان زبان میں مضمون نگاری کے ذریعے اردو نثر کو ایک نئی زندگی عطا کی ۔

سر سید احمد خاں کی شخصیت اور ان کی خدمات پر طائرانہ نظرڈالی جائے تو ان کے کئی روپ سامنے آتے ہیں ۔ وہ ایک مصلح قوم و ملت، عظیم مفکراور دانشور تھے۔ علی گڑھ تحریک کے زیر سایہ انھوں نے قوم و ملت کی خدمت کی اور اس کے ساتھ انھوں نے اردو زبان خصوصاً اردو نثر کو عوام کے طبقے تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا۔سرسید ایک اچھے معلم بھی تھے اور تعلیم و تربیت پران کی خصوصی توجہ تھی۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ تعلیم ہی کے ذریعے انسان کامیابی کے راستے کوپار کر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ۔ اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا اور اسی کے نتیجے میں محمڈن اینگلو اورینٹیل کالج کا قیام عمل میں آیا جو آگے چل کر ایک مرکزی یونی ورسٹی میں تبدیل ہوگیا۔ وہ صحافی اور مصنف بھی ہیں۔ تاریخی، مذہبی، علمی اور تہذیبی موضوعات پر کئی کتابوں کی تصنیف اور بے شمار مضامین کے ساتھ ساتھ اردو کے مایہ ناز رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی ادارت کی اور اس کے خد و خال کو سنوارا۔ اسی رسالے کے ذریعے انھوں نے عوام خصوصاً مسلم عوام سے رابطہ پیدا کرکے انھیں ذلت کے غار سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔
سر سید کی ایک اور حیثیت ہے ۔ وہ اردو محققین کے پیش رو ہیں۔ اردو میں تحقیق کی روایت کا آغاز انھیں سے ہوتا ہے ۔ گرچہ اس سے قبل بھی اردو نثر میں تحقیق کے عناصر پائے جاتے تھے مگر سر سید نے تحقیق کے سائنٹفک اصولوں کے تحت اردو تحقیق کی نئی روایت قائم کرتے ہوئے اپنے جانشین محققین کے لیے تحقیق کی بنیادیں فراہم کیں جس پر اردو کے محققین نے بلند و قامت عمارت تعمیر کی ہے۔
سرسید کو محقق بنانے اور اپنے جانشین محققین کے لیے نقوش چھوڑنے میں سب اہم رول ان کی مایہ ناز تصنیف ’’آثار الصنادید‘‘ نے ادا کیا ہے۔یو ں تو یہ ایک تاریخی کتاب ہے جو چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے تین ابواب میں دہلی کی تاریخی عمارتوں اور قدیم کھنڈرات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ پہلے باب میں فصیل بند شہر دہلی کے باہر کی عمارتوں کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں قلعہ معلی کی عمارتوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں شہر شاہجہان آباد جو فصیل بند شہر تھا، اس میں موجود تاریخی عمارتوں کی معلومات درج کی گئی ہیں۔ چوتھے اور آخری باب میں دہلی کے علما، صوفیا، ادبا و شعرا، اطبا، موسیقاروں اور دیگر فن کاروں کا مختصر اور جامع تذکرہ موجود ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی اپنی کتاب ’’حیات جاوید‘‘ میں اس کتاب کے ابواب بارے میں لکھتے ہیں کہ’’پہلے باب میں تقریباً ۱۳۰ عمارتوں کا بیان ہے جن میں ہندو اور مسلمان دونوں کی عمارتیں شامل ہیں اور چند کے سوا باقی ہر عمارت کا کتبہ اور نقشہ اس کے ساتھ دیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ۳۲عمارتوں کا بیان اوراس کے نقشے اور کتبے مندرج ہیں۔ تیسرے باب میں تقریباً ۷۰ حویلیوں، مسجدوں، مندروں، بازاروں، باولیوں اور کنووں وغیرہ کا بیان ہے ۔ چوتھے باب میں اول کسی قدر اُن شہروں، قلعوں، اور محلوں وغیرہ کا بیان ہے جو ۴۰۴ ؁بکرمی سے لے کر آخر تک وقتاً فوقتاً اس سرزمین میں آباد ہوئے۔ اس کے بعد یہاں کی آب و ہوا اور زبان اردو کا ذکر ہے۔ پھر مشاہیر اہل دہلی کا حال لکھا ہے جس میں ایک سو بیس مشائخ، علما، فقرا، مجاذیب، اطبا، قرًا، شعرا، خوش نویس، مصور، موسیقی داں وغیرہ کا بیان ہے۔‘‘
سر سید احمد خاں پہلے مصنف ہیں جنھوں نے اردو میں آثار قدیمہ کے موضوع پر علمی اور محققانہ انداز پر معرکۃ الآراء کتاب ’’آثار الصنادید‘‘ لکھی۔ اس کتاب کے بارے میں سیداحتشام حسین نے اپنی کتاب ’’اردو ادب کی تنقیدی تاریخ‘‘میں لکھا ہے کہ ’’...ان میں سب سے زیادہ اہمیت ’’آثار الصنادید ‘‘ کو حاصل ہوئی کیونکہ یہ ہندوستانی زبانوں میں پہلی تحقیقی کتاب تھی جس میں دہلی کی تاریخی عمارتوں کی تفصیل دی گئی تھی۔ اسی کے ساتھ اہل دہلی کاایک تذکرہ بھی تھا۔ اس کے لکھنے میں انھوں نے کچھ مدد امام بخش صہبائی سے بھی لی تھی۔ اس کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں بھی ہوئے اور سر سید کی شہرت اور عزت میں اضافہ ہوا۔‘‘ اس کتاب کی شہرت او راہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسی زمانے میں اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے۔ پہلا ایڈیشن سر سید کے اپنے مطبع سیدالاخبار سے ۱۸۴۷ء میں شائع ہوا۔ ا س کے سات سال بعد سرسید نے اس کتاب پرنظر ثانی کرکے کچھ ترمیم اور حذف و اضافہ کے ساتھ دو بارہ ۱۸۵۴ ء شائع کیا۔ پہلے ایڈیشن میں جو خامیاں راہ پا گئی تھیں ، اس کی وضاحت دوسرے ایڈیشن میں کی گئی تھی۔ مگر دوسرے ایڈیشن میں چوتھے باب کو خارج کردیا گیا تھاجس میں اہل علم حضرات کا مختصرمگر جامع تذکرہ موجود تھا۔ اس کتاب کی تیاری میں سرسید کو بہت محنت اور مشقت کرنی پڑی ۔ تمام عمارتوں کا معائنہ کرنا، پھر اس کے کتبوں اور نقشوں کو پڑھنا اور اس میں سے نوٹ تیار کرنا بہت مشکل امر تھا، بعض بلند و بالا عمارتوں کے کتبے بہت اونچے ہوتے جن کو پڑھنے کے لیے سرسید کو چھینکا اور بلًیوں کا استعمال کرناپڑا، مگر اس مشقت کے باجود سرسید کی ہمت اور ان کا عزم نہیں ہارا ۔ سر سیدکی اس محنت اور لگن کا نقشہ مولانا حالی نے ’’حیات جاوید‘‘ میں یوں کھینچا ہے کہ ’’باہر کی عمارتوں کی تحقیقات کرنا ایک نہایت مشکل کام تھا۔ بیسیوں عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر ہو گئی تھیں۔ اکثر عمارتوں کے کتبے پڑھے نہ جاتے تھے۔ بہت سے کتبوں سے ضروری حالات معلوم نہ ہوسکتے تھے۔ اکثر کتبے ایسے خطوں میں تھے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔ بعض قدیم عمارتوں کے ضروری حصے معدوم ہوچکے تھے۔ اور جو متفرق اور پراگندہ اجزا باقی رہ گئے تھے ان سے کچھ پتا نہ چلتا تھاکہ یہ عمارت کیوں بنائی گئی تھی اور اس سے کیا مقصود تھا....پھر اکثر عمارتوں عرض و طول و ارتفاع کی پیمائش کرنی، ہر ایک کی عمارت صورت حال قلمبندکرنی، کتبوں کے چربے اتارنے اور ہر ایک کتبے کو بعینہ اس کے اصلی خط میں دکھانا، ہر ٹوٹی پھوٹی عمارت کا نقشہ جوں کا توں مصور سے کھنچوانا اور اس طرح کچھ اوپر سوا سو عمارتوں کی تحقیقات سے عہدہ بر آ ہونا فی الحقیقت نہایت دشوار کام تھا۔سیر سید کہتے تھے کہ ’’قطب صاحب کی لاٹ کے بعض کتبے جو زیادہ بلند ہونے کے سبب پڑھے نہ جاسکتے تھے ان کے پڑھنے کو ایک چھینکا دو بلًیوں کے بیچ میں ہر ایک کتبے کے محاذی بندھوا لیا جاتا تھا اور میں خود اوپر چڑھ کر اور چھینکے میں بیٹھ کر ہر کتبے کا چربہ اتارتاتھا جس وقت میں چھینکے میں بیٹھتاتو مولانا صہبائی فرط محبت کے سبب بہت گھبراتے تھے اور خوف کے مارے ان کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا۔‘‘ سر سید کی آئندہ ترقیات کی گویا یہ پہلی سیڑھی تھی۔‘‘
اس تحقیقی کتاب کے سبب سرسید کو اردو کا پہلا محقق کہا جا سکتا ہے کیونکہ اول تو اس میں دہلی کی عمارتوں کا محققانہ ذکر تھا ۔ دوسرے یہ کہ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں چوتھے باب میں جن اہل علم حضرات کے احوال درج کیے گئے وہ تحقیق کے اصولوں پر تیار کیے گئے تھے جو آئندہ کے محققین کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ یہ کتاب اس زمانے میں اردو زبان کی بدلتی شبیہ کی مثال بھی ہے ۔ کیونکہ اس کے پہلے اور دوسرے ایڈیشن کی زبان میں بہت فرق ہے، جو اردو نثر کے ارتقا کا بین ثبوت ہے۔بقول سید عبداللہ ’’ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۸۴۷ء میں اردو نثر پر سہ نثر ظہور اور انشائے ابولفضل کا گہرا سایہ پڑا ہوا ہے ۔ لیکن سات سال بعد یعنی ۱۸۵۴ء میں ہم اسے انگریزی نثر اور انگریزی انشاپردازی کے اثرات سے متاثر پاتے ہیں۔ اب بے ضرورت تکلف، رنگینی اور فارسیت کی بجائے نثر میں سادگی، سلاست اور بے ساختہ پن صاف دکھائی دیتا ہے۔ غرض آثار کی دونوں اشاعتوں کے د رمیان نثر کے اسلوب میں یکا یک جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں گو نا گوں اندرونی اور بیرونی اسباب کی وجہ سے اردو نثر ترقی کے قدم جلد جلد اٹھا رہی ہے۔‘‘
اس کتاب کے علاوہ سرسید نے تاریخ کی تین کتابوں کی تحقیق وتدوین کرکے دو بارہ شائع کیا۔ پہلی کتاب ’’آئین اکبری‘‘ ہے جس میں مغل زیورات کی تصویریں، خیمہ گاہ بادشاہی اور تمام پھل دار اور پھول دار درختوں کی تصویریں شامل تھیں۔ دوسری کتاب ضیا برنی کی ’’تاریخ فیروزشاہی‘‘ کی تدوین ہے جس میں سلاطین ہند کی مستند تاریخ ہے۔ تیسری کتاب ’’تزک جہانگیری‘‘ کی ترتیب و تدوین ہے ۔ ’’آثار الصنادید‘‘ کی تصنیف کے ساتھ ان تین کتابوں کی تحقیق و تدوین نے سرسید کو اردو پہلا محقق بنا دیا۔

گھر آنگن کا شاعر : جاں نثار اختر – ڈاکٹر سلمان فیصل

جاں نثار اختر ایک ایسے علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جن کی جبلت میں شاعری و دیعت کی ہوئی تھی۔ جاں نثار اختر کو ورثے میں شاعری ...